ٹوکیو (عرفان صدیقی)
ہم خیال گروپ جاپان کی جانب سے سینئر پاکستانی کمیونٹی رکن نصرت اعوان کی صحت یابی اور بہتر ہوتی صحت کے شکرانے کے طور پر ایک خصوصی کمیونٹی عشائیے کا اہتمام کیا گیا۔ اس تقریب میں ہم خیال گروپ کے تمام اراکین نے شرکت کی، جبکہ جاپان میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی متعدد معزز اور معروف شخصیات بھی اس موقع پر موجود تھیں۔ تقریب میں اتحاد، ہمدردی اور اجتماعی ذمہ داری کا جذبہ نمایاں طور پر محسوس کیا گیا۔
تقریب کا بنیادی مقصد نصرت اعوان کی صحت میں بہتری پر شکرگزاری کا اظہار کرنا اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ یکجہتی کا پیغام دینا تھا۔ شرکاء نے ان کی صحت یابی پر اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ پردیس میں بیماری ایک کٹھن مرحلہ ہوتی ہے، جہاں اخلاقی تعاون، دعائیں اور باہمی قربت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔




اس موقع پر خصوصی اجتماعی دعائیں بھی کی گئیں، جن میں نہ صرف نصرت اعوان کی مکمل صحت یابی بلکہ جاپان میں مقیم تمام بیمار پاکستانیوں کے لیے بھی دعا کی گئی۔ شرکاء نے اللہ تعالیٰ سے ان کی جلد صحت، حوصلے اور آسانی کی دعا کی۔ مقررین نے کہا کہ ایسی دعائیں کمیونٹی کے رشتوں کو مضبوط بناتی ہیں اور یہ احساس دلاتی ہیں کہ پردیس میں کوئی بھی فرد تنہا نہیں۔






تقریب اس حقیقت کی یاد دہانی بھی تھی کہ اوورسیز پاکستانی کمیونٹیز محض سماجی حلقے نہیں بلکہ ایک دوسرے کے لیے خاندان کی حیثیت رکھتی ہیں۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ اتحاد اور باہمی خیال داری وہ اقدار ہیں جو وطن سے دور رہتے ہوئے جذباتی اور جسمانی مشکلات کا مقابلہ کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
تقریب میں ایک خاص ثقافتی اور جذباتی رنگ اس وقت شامل ہوا جب چوہدری شہزاد صاحب پاکستان سے اپنے گاؤں کا تیار کردہ خالص دیسی گڑ اپنے ساتھ لائے۔ اپنے ہاتھ سے تیار کیا گیا یہ گڑ وطن سے گہری وابستگی کی علامت تھا، جسے شرکاء نے بے حد سراہا۔ اس اقدام نے تقریب میں ایک مانوس اور گھریلو فضا پیدا کر دی۔



چوہدری شہزاد صاحب کی درخواست پر ادریس صاحب، جو ہانڈی ریسٹورنٹ کے روحِ رواں ہیں، نے اسی خالص گڑ سے میٹھے چاول تیار کروائے جو تمام شرکاء کو پیش کیے گئے۔ میٹھے چاول تقریب کی خاص کشش بنے اور شرکاء نے ان کے ذائقے اور معیار کو پاکستانی روایتی مہمان نوازی کی خوبصورت مثال قرار دیا۔
تقریب کے دوران ہانڈی ریسٹورنٹ کے جاپان میں پندرہ سال مکمل ہونے پر ادریس صاحب کو خصوصی طور پر مبارکباد بھی پیش کی گئی۔ کمیونٹی اراکین نے جاپان جیسے مسابقتی ماحول میں ایک پاکستانی ریسٹورنٹ کو کامیابی سے پندرہ سال تک چلانے کو محنت، لگن اور استقامت کی روشن مثال قرار دیا۔
شرکاء نے ادریس صاحب کے لیے صحت، کامیابی اور مزید ترقی کی دعائیں کیں اور پاکستانی کھانوں اور ثقافت کو جاپان میں متعارف کرانے میں ان کے کردار کو سراہا۔



تقریب کے دوران ماحول خوشگوار اور باوقار رہا۔ گفتگو میں شکرگزاری، باہمی تجربات اور ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی نمایاں تھی۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ ایسی تقریبات کمیونٹی کے رشتوں کو مضبوط کرتی ہیں اور ہمدردی و تعاون جیسی اقدار کو فروغ دیتی ہیں۔


عشائیے کا اختتام اطمینان اور یکجہتی کے احساس کے ساتھ ہوا۔ شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ بیماری کے اوقات میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے، کامیابیوں کو مل کر منائیں گے اور جاپان میں رہتے ہوئے اپنی سماجی اور ثقافتی وابستگی کو برقرار رکھیں گے